Wednesday, September 26, 2012

UJC backs strike call


NISAR AHMED THOKAR


Islamabad, Sep 25: Extending full support to the shutdown called by Hurriyat Conference (G) on September 27, the chairman of United Jihad Council (UJC) Syed Sallah-ud-Din on Tuesday urged Kashmiris to observe complete strike on the occasion of President Pranab Mukherjee’s visit to Kashmir on Thursday.
“Indian President’s visit to the valley is tantamount to rubbing salt on the bleeding wounds of Kashmiris,” the UJC chief said in a statement issued here. He said Mukherjee’s visit has no moral justification. “Besides violating international covenants, the armed forces operating in the territory have been committing massive human rights violations, killing hundreds and thousands of Kashmiris,” he said.
Referring to the prevailing situation in the region, the UJC chairman alleged that ‘subjecting people to enforced disappearance, molestation of women, loot and plundering had become a routine for the trigger-happy forces in Kashmir.’
He also condemned the police action against peaceful protest rally organized by Dukhtaran-e-Millat.
He also appreciated the people for launching a strong protest against the blasphemous movie made in the US, saying that observance of peaceful protest across the valley was a clear message that the followers of Prophet Muhammad (SAW) won’t tolerate such wicked attempts by anti-Islam elements.

Thursday, September 6, 2012

مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر قیام امن کی کوششیں خود فریبی اور وقت کا ضیاع ہے:امان اللہ خان


قیام امن کے لئے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کو ایک مخصوص ٹائم فریم کے اندر اندر حل کیا جانا چاہیے
نثار احمد ٹھوکر
اسلام آباد:جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سرپرست اعلےٰ امان اللہ خان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو پسِ پشت ڈال کرخطہ میں قیام امن کی کوششیں خود فریبی، وقت کا ضیاع اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے علاوہ کچھ نہیں۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 65سال سے التواء میں پڑے ہوئے اور فریقین کیلئے ماضی میں انتہائی نقصاندہ اور مستقبل کیلئے انتہائی خطر ناک ثابت ہونے والے مسئلہ کشمیر کوکسی صورت بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔انکا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین دو خونخوار جنگوں اور خود کشمیریوں کی طرف سے شروع کی گئی 3بار کی عوامی مزاحمتی تحریکوں( جو کہ ہنوز جاری ہے) کے نتیجے میں لاکھوں جانوں کی قربانیوں کے ساتھ ساتھ اربوں ، کھربوں مالیت کی املاک تباہ ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتنی سنگین نوعیت کے مسئلہ کو پسِ پشت ڈال کر امن کے گیت گانا دونوں ملکوں کے غیر ذمہ دارانہ طرزِ فکر و عمل کا عکاس اور مجرمانہ غفلت کا ارتکاب ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ مسئلہ پرامن ، منصفانہ، دیرپا اور فریقین کیلئے آبرومندانہ طریقے سے حل نہیں کیا جاتا تو دونوں ملکوں کے کروڑوں انسانوں کے سروں پر تیسری اور بلاشبہ ایٹمی جنگ کے خطرات ہمیشہ منڈلاتے رہیں گے۔
امان اللہ خان نے بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو پسِ پشت ڈالنے ، مذاکرات میں اس اہم مسئلہ کو مسلسل نظر انداز کرنے اور مسئلہ کے حل کے حوالے سے سنجیدہ اور عملی اقدامات نہ اٹھا ئے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے آمدہ وزرائے خارجہ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو سر فہرست رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کی وجہ سے کشمیریوں کی 4نسلوں نے بڑی تعداد میں جانی اور مالی نقصان کو برداشت کیا ہے اس لئے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اب یہ تنازعہ کشمیریوں کی اگلی نسل تک منتقل نہ ہو بلکہ سنجیدہ اور نتیجہ خیزمذاکراتی عمل کا آغازکر کے جموں کشمیر کے حقیقی نمائندوں کو بنیادی فریق کی حیثیت سے اس عمل میں شامل کرتے ہوئے اسے منصفانہ ، قابلِ عمل،دیرپا اور فریقین کیلئے آبرومندانہ طریقے سے حل کیا جائے۔
امان ا للہ خان نے وضاحت سے کہا کہ لبریشن فرنٹ بھارت اور پاکستان کے مابین بڑھتے ہوئے سیاسی و معاشی تعلقات اور امن عمل کیخلاف نہیں ہے بلکہ دعا گو ہیں کہ یہ تعلقات مزید مضبوط ہوں تاکہ دونوں ملک بین الاقوامی سطح پر فلاح وبہبود اور امن عامہ کے قیام کیلئے اعلیٰ کردار ادا کریں تاہم انکا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر کو پرامن، منصفانہ ، دیرپا اور فریقین کیلئے آبرومندانہ طریقے سے حل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس دونوں ممالک (بھارت و پاکستان )اگر حقیقی معنوں میں دوستانہ تعلقات بحال کر کے ترقی کی طرف گامز ن ہونا چاہتے ہیں تو انہیں65سالہ پرانے مسئلہ کشمیر کو فوری اور ایک مخصوص ٹائم فریم کے اندر اندر حل کر نا چاہئے کیونکہ کشمیر کا منصفانہ حل دونوں ملکوں کے درمیان دائمی دوستی کے پل میں تبدیل ہوسکتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کیلئے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے فارمولا پیش کیا ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ منقسم ریاست جموں کشمیر کو دوبارہ متحد کر کے وہاں ایک ایسی آزاد وخودمختار مملکت کا قیام عمل میں لا یا جائے جس کا طرز حکومت جمہوری ،وفاقی اور تمام ریاستی باشندوں کے لئے مساویانہ حقوق کی حامل ہو اور اس کے تعلقات دنیا بھر کے ممالک سے باالعموم اور اپنے ہمسایوں بشمول بھارت اور پاکستان سے بالخصوص دوستانہ ہوں۔انہوں نے مزیدکہا کہ پاکستان نے 11جولائی1947ء کو قائد اعظم مسٹر محمد علی جناح کے ایک پالیسی بیان کے ذریعہ کشمیر کے حق خودمختاری کو تسلیم کیا تھا جبکہ بھارت نے گوپالا سوامی آئنگر کی سلامتی کونسل میں 15جنوری 1948ء کی تقریر میں کشمیر کو خودمختاری دینے کے حق کو تسلیم کیا تھا۔ انہوں نے فارمولے کے دس اہم فائدوں کی بھی وضاحت کی جن میں سے ایک یہ ہے کہ مجوزہ فارمولہ مسئلہ کشمیر کو کسی بھارتی ،پاکستانی یا کشمیری کا ایک قطرہ خون بہائے بغیر حل کرتاہے اتنے بڑے فائدے حاصل کرنے کیلئے بھارت اور پاکستان کو صرف اتنا کرنا ہوگا کہ وہ کشمیریوں کو ریاست کے وہ علاقے واپس کردیں جن پر اس وقت ان کا قبضہ ہے تاکہ مجوزہ خودمختار کشمیر بنایا جاسکے ۔
فرنٹ کے سرپرستِ اعلےٰ نے پاکستانی قیادت کے ساتھ ساتھ اہلِ پاکستان سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ ریاست جموں کشمیر کی مکمل خودمختاری کی حمایت کریں جس کے نتیجہ میں بھارت کے جمہوریت اور انصاف پسند عوام اور عوامی نمائندے بھی ہمارے اس حق کی حمایت پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔
امان اللہ خان نے کہا کہ مجوزہ فارمولے کوحال ہی میں ایک اپیل کی شکل میں بھارت و پاکستان اور طرفین کی کشمیری حکومتوں، سیاسی جماعتوں کے قائدین، انسانی حقوق کی تنظیموں،ذرائع ابلاغ کے نمائندوں ، دانشوروں کے علاہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، سلامتی کونسل کے ممبران اور 35اہم ممالک کے اقوامِ متحدہ میں نمائندگان کو بھی ارسال کیا گیا ہے۔ جسمیں تمام متعلقہ حلقوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس فارمولے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے مثبت اور نتیجہ خیز کردار ادا کریں۔

No durable peace till Kashmir resolved: Amanullah Khan


NISAR AHMED THOKAR
Islamabad, Sep 6: The supreme head of Jammu Kashmir Liberation Front Amanullah Khan Thursday said that peace efforts by India and Pakistan won’t yield any positive result unless a serious and concentrated effort is made to resolve the issue of Kashmir which has inflicted loss of hundreds and thousands of lives and property worth billions of dollars.
 Addressing a press conference here at the National Press Club, the JKLF founder, who was accompanied by central leader Rafique Ahmed Dar and SLF president Ghulam Mujtaba, castigated the governments of India and Pakistan for their “negligence and indifference” towards Kashmir solution. “Kashmir issue must be given top priority in the forthcoming Indo-Pak foreign ministers’ meeting on September 8,” he said. “The peace efforts by India and Pakistan are nothing till Kashmir is resolved.”
 Referring to the flinching sacrifices rendered by the people of Kashmir, Khan said: “In view of the historic struggle, justice demands that Kashmir conflict, existence of which has consumed four generations, should not be transferred to the next Kashmiri generation.”
“For the peaceful, practicable, honorable and long-lasting resolution of Kashmir, both India and Pakistan along with the genuine ideological leadership of resistance movement should start a serious, result-oriented and time-bound dialogue process.”
Regarding his party stance, the JKLF supreme head said: “We are neither against the increasing political and economical ties between the two countries nor against the peace process. A just and honorable  solution of Kashmir issue is must to ensure durable peace in the region.”
He said, “Resolution of Kashmir issue can prove a bridge of friendship between India and Pakistan otherwise it will continue to be a bone of contention between them”.Khan while elaborating his proposed solution, said, “Reunification of divided parts of Jammu Kashmir and establishment of an independent and sovereign state with a democratic and federal system of governance wherein every citizen of the state irrespective of religion, cast and creed would enjoy equal rights”.
Regarding Indo-Pak leadership’s commitment, he said that Quad-e-Azam Mr. Muhammad Ali Jinnah in a policy statement on 11th July, 1947 has accepted the right to independence of Kashmir whereas Mr. Gopala Sawami Ayyanagar as the head of Indian delegation, in his speech on the floor of UNSC on 15th January, 1948 had also accepted Kashmir’s right to independence.
Expressing 10 mega benefits of his proposed K-solution, he said that one of which is that the formula provides a solution of Kashmir issue without shedding a drop of blood of either party.
He also appealed to the national leadership and most importantly the people of Pakistan to support the idea of an independent and sovereign Jammu Kashmir State and hoped that the democracy and justice loving people of India and their representatives shall also support it.
Responding to a question regarding the constitutional amendments in Act 1974 (PaK interim act), Khan said that JKLF believes that legislation is the sole right of the people of PaK.

Friday, August 31, 2012

ایکٹ 1974میں ضروری ترامیم کے حوالے سے کشمیری قیادت اوروزارت امور کشمیر کے درمیان اتفاق رائے طے



تمام جماعتیں پاک زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی ریفارمزکمیٹی کواپنی تجاویز پیش کریں گی
مسودہ 60دنوں کے اندر اندر تیار کرکے اسمبلی میں پیش کیا جائیگا
نثار احمد ٹھوکر
اسلام آباد: وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان میاں منظور وٹو کے زیر صدارت دارلحکومت اسلام آباد میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی سیاسی جماعتوں کا ایک غیر معمولی اجلاس منعقد ہواجس میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے علاوہ تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔وفاقی وزیر کی جانب سے بلائی گئی اس اعلیٰ سطح میٹنگ میں کشمیری رہنماؤں نے آزاد حکومت کو مزیدبا اختیار بنانے کے حوالے سے 1974کے عبوری آئین میں ضروری ترامیم کرنے کے حوالے سے وزیر امور کشمیر کو اپنی تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوامی حکومت کو مضبوط اورموثر بنانے کے لیے خطے میں نافذالعمل ایکٹ 74کا ازسر نو جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے ۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ تمام قائدین کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اختلافات کو بالائے طاق رکھکر اس اہم اجلاس میں شرکت کی۔انکا کہنا تھا کہ اجلاس میں کشمیری قائدین نے مملکت خداداد پاکستان اور کشمیر کاز کے ساتھ والہانہ عقیدت اور وابستگی کا اظہار کیا۔
ایکٹ 74میں ترامیم کے حوالے سے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عبوری آئین میں ضروری ترامیم کے حوالے سے پاک زیر انتظام کشمیر کی تمام سیاسی پارٹیوں کے سربراہاں اور وزارت امور کشمیر کے درمیان اتفاق ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں طے پایا گیا کہ نیا فورم بنانے کے بجائے تمام جماعتیں اپنی اپنی تجاویز اور سفارشات تحریری طور پر قانون ساز اسمبلی کی کمیٹی کو پیش کریں جو آئینی ترامیم کے حوالے سے ایک مسودہ تیار کریگی جس سے حتمی شکل دینے اور وفاقی حکومت کی تصدیق کے بعد منظوری کے لئے کشمیر کونسل اور آزاد حکومت کے مشترک اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مسودہ 60دنوں کے اندر اندر تیار کیا جائیگا۔
میاں منظور وٹو نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کشمیر ی عوام اور حکومت کو ہر اعتبار سے بااختیار دیکھنا چاہتے ہیں۔18، 19اور20ویں ترامیم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبوں کو مذید خود مختاری دینے کے لئے جو آئینی ترامیم کئیں وہ اتفاق رائے سے پاس ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ترجیع ہے کہ وہ آزاد خطے میں بھی ضروری آئینی ترامیم کے حوالے سے اتفاق رائے پیدا کرنا چاہتی ہے تاکہ معمالات کو احسن انداز میں حل کیا جاسکے۔
اس موقع پر قائد حزب اختلاف اور سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حید ر نے وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاک زیر انتظام کشمیر کی حکومت اور مرکز کے مابین عبوری آئین کے حوالے سے کئی متنازعہ ایشوز ہیں جن کو معروضی حالات کے پیش نظر حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش کے ان تمام معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے تاہم انکا کہنا تھا کہ اگر انکے جائز مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو وہ جمہوری حقوق کی خاطر تحریک چلائیں گے۔
یادر ہے کہ اس اجلاس میں وزیر اعظم چوہدری مجید، اپوزیشن لیڈرراجہ فاروق حیدر، سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان،عبد الرشید ترابی، جسٹس مجید ملک سمیت تقریباً بارہ دیگر سیاسی جماعتوں کے سربراہاں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں قوم پرست جماعتوں کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

Fazl summons KC session to discuss problems


KASHMIRI MIGRANTS

NISAR AHMED THOKAR

Islamabad, Aug 31: The Chairman of All Parties Parliamentary Committee on Kashmir, Moulana Fazl Rehman, has summoned the Committee’s session to discuss the problems faced by Kashmiri migrant community settled in various make-shift camps of Muzaffarabad and other areas of Pakistani administered Kashmir (PaK).
 “The Kashmir Committee chairman called the urgent meeting after taking notice of the refugees’ problems reported by different news papers of the region recently”, said a statement here on Friday.
 According to details, the meeting scheduled to be held at Parliament House on 2nd September at 2 PM would be attended by members of the Committee whereas federal minister for Kashmir Affairs and top officials of Foreign Ministry, Ministry Kashmir Affairs and Gilgit Baltistan and the concerned authorities from PaK have been specially invited to attend the meeting.
 It is worth to mention here that the number of members of Parliamentary Kashmir Committee had now swelled to 36 after the National Assembly speaker recently announced induction of 12 senators in the committee that included Barrister Aitzaz Ahsan, senator Mushid Hussain, senator Raza Rubbani, Haji Adeel and others.

مظفر آباد میں کشمیری مہاجرین کے مسائل


اسلام آباد میں 11ستمبر کو کمیٹی کا اجلاس ہوگا

اسلام آباد//پاکستان کی پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن نے کشمیری مہاجرین کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کشمیر کمیٹی کا اجلاس بلا لیا ہے۔یہ اجلاس 11 ستمبر 2 بجے بعد دوپہر پارلیمنٹ ہائوس ، اسلام آبادمیں ہو گا جس میں ممبران کشمیر کمیٹی کے علاوہ وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان، وزارت کشمیر، وزارت خارجہ اور آزاد کشمیر کے اعلیٰ افسران شرکت کریں گے۔یادر ہے کہ چند دن پہلے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کیمپوں میںمقیم مہاجرین کے مسائل کے بارے میں اخبارات میں خبریں شائع ہوئی تھیںجن پر چیئرمین کشمیر کمیٹی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے کشمیری مہاجرین کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کشمیر کمیٹی کا اجلاس بلایا ہے۔کل جماعتی پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر جس میں مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ممبران کی کل تعداد 24تھی لیکن حال ہی میں قومی اسمبلی کی سپیکر نے کمیٹی میں سینٹ کے 12 ممبران بھی شامل کر دیئے ہیں جن میں بیرسٹر اعتزاز احسن، میاں رضا ربانی، سردار علی خان، محمد جہانگیر بدر، مشاہد حسین سید،محمد طلحہ محمود، حاجی محمد عدیل، ڈاکٹر محمد فروغ نسیم، ہدایت اللہ، میر محمد علی رند، سید ظفر علی شاہ اور پروفیسر ساجد میر شامل ہیں۔ اس طرح کمیٹی کے ممبران کی تعداد اب 36 ہو گئی ہے

Thursday, August 30, 2012

PaK leaders for amending 1974 interim Act


NISAR AHMED THOKAR

Islamabad, Aug 30: The federal Minister for Kashmir Affairs and Gilgit Baltistan Mian Manzoor Ahmed Wattoo has said the Ministry of Kashmir Affairs and the mainstream political parties of PaK are on the same page on the issue of constitutional amendments in the interim Act of 1974.
 Addressing a news conference after chairing a high profile meeting of Kashmiri leaders at his residence in Islamabad today the federal minister said that participants forged consensus on necessary amendments in the interim constitution so as to strengthen the local government.
 He said that it was resolved that instead of establishing a new forum the respective parties should present their suggestions and recommendations to the All Parties Parliamentary Committee in the Legislative Assembly.
 He said that the Committee would be accordingly tasked to chalk out a comprehensive document within a span of 60 days in line with the recommendations of all the political parties of the region.
 “Once the document is finalized and it would be ratified by the central government and would be accordingly presented in the joint session of Kashmir Council and PaK Legislative Assembly for the final nod,” Wattoo said.
 Stating that his party believes in decentralization of powers the KA minister made it absolutely clear that the central government particularly the PPP leadership wants to empower Kashmiri people in every respect.
 Referring to 18th, 19th and 20th constitution amendments he said that these amendments were adopted with absolute consensus amongst all the stakeholders and likewise he added that the government wants to forge broad based consensus to make necessary amendments in the interim constitution of PaK. Wattoo also thanked heads of all the political parties for their participation in the conference.
 Speaking on the occasion, opposition leader and the former prime minister of PaK, Raja Farooq Hyder said that there were so many intriguing issues between the two governments, which he said should be resolved peacefully through dialogue. He said that if their legitimate demands were not fulfilled his party would go to any extent to get the basic democratic and constitutional rights.

Wednesday, August 29, 2012

اپوزیشن جماعتوں کا متفقہ موقف اختیار کرنیکا فیصلہ


اسلام آباد//پاکستا ن مسلم لیگ(ن) کے صدر راجہ محمد فارفاروق حیدر خان کی دعوت پردارلحکومت اسلام آباد میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی اپوزیشن جماعتوںکا مشاورتی اجلاس منعقد ہواجس میں سابق صدر میجر جنرل(ر) سردار محمدانور خان، پیپلز پارٹی کے صدرسردار خالد ابراہیم، امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی، آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے سردار سیاب خالد، لبریشن لیگ کے صدر جسٹس (ر) عبدالمجید ملک، پیپلز پارٹی شہید بھٹو گرئوپ کے صدر چوہدری منیر کے علاوہ مسلم لیگ(ن)کے سیکرٹری جنرل شاہ غلام قادر، سینئر نائب صدر چوہدری طارق فاروق نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں طے پایا کہ وزیر امور کشمیر منظور وٹو کی طرف سے بلائی جانیوالی کشمیری راہنمائوں کی میٹنگ میں شرکت کرکے جماعتیں ایکٹ1974ء میں ترامیم کیلئے اپنی اپنی تجاویز دیتے ہوئے متفقہ موقف اختیار کرینگی۔ اجلاس کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے لیگ کے مرکزی رہنماء عبدالخالق وصی ایڈوکیٹ نے بتایا کہ 30اگست کو منعقد کی جانے والی کانفرنس کے اختتام پر اپوزیشن راہنما پریس کانفرنس میں اپنا نکتۂ نظر بھی بیان کرینگے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کا موقف واضح ہے کہ ہم خطے میں ایک با اختیار حکومت چاہتے ہیںاور لیگی قیاد ت اس حوالے سے اپنی جدو جہد جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کو اعلان24اکتوبر1947کے مطابق مکمل بااختیار بنانے پر زور دیا گیا۔اجلاس میںاو آئی سی کانفرنس منعقدہ مکہ میں جموں وکشمیر کے نمائندوں کو مدعو نہ کرنے پر اظہار افسوس کیا گیااور اسے حکومت پاکستان کی کشمیرکے بارے میں عدم د لچسپی ، نااہلی اور سفارتی ناکامی قرار دیا گیا اور ستمبر میں ہونے والے پاک بھارت وزراء خارجہ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو کلیدی حیثیت دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

پاک زیر اتنظام کشمیر کے حکومتی اختیارات،ایکٹ 1974 میں ترامیم پر غور

پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس

اسلام آباد//پاکستان پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا ایک اجلاس گزشتہ شب کشمیر ہائوس اسلام آباد میں صدر ریاست سردار محمد یعقوب خان اور وزیر اعظم و قائد ایوان چوہدری عبدالمجید کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماء اور اتحادی جماعتوں کے نمائندوںنے شرکت کی۔یہاں جاری ایک بیان کے مطابق اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال‘ آزاخطے میںحالیہ مون سون کی بارشوں سے ہونے والے نقصانات اور ایکٹ 1974 میں ترامیم اور وزیر امور کشمیر میاں منظور احمد وٹو کی طرف سے طلب کردہ آزاد کشمیر کے عبوری آئین ایکٹ 1974 میں ترامیم کے حوالہ سے آل پاٹیز کانفرنس کے حوالہ سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں مختلف قرار دادیں بھی پاس کی گئیں جن میں پارلیمانی پارٹی نے مسئلہ کشمیر پر حکومت پاکستان کے موقف کی مکمل حمایت و تائید کرتے ہوئے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں حکومت پاکستان کی کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے کی جانے والی کاوشوں پر اظہار اطمینان کیا گیا اور آزاد حکومت کی جانب سے حق خودارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا اور عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ کشمیری عوام کو ان کا پیدائشی حق اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دلانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ اجلاس میںایک اور قرار داد کے ذریعے وزیر امور کشمیر میاں منظور احمد وٹو کی طرف سے آزاد کشمیر کے عبوری ایکٹ 1974 میں ترامیم کے حوالہ سے 30 اگست کو طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایکٹ 1974 میں معروضی حالات کے مطابق ترامیم کو ناگزیر قرار دیا گیا۔ ایک اور قرار داد میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حریت قیادت مسئلہ کشمیر کے حل اور حق خودارادیت کے حصول کیلئے جو بھی متفقہ فیصلہ کرے گی اسے پاک زیر انتظام کشمیر کی حکومت اور کشمیری عوام قبول کریں گے۔

Ministry of Kashmir Affairs to empower PaK govt


All Parties’ Conference to be held in Islamabad

NISAR AHMED THOKAR

Islamabad, Aug 29: The Ministry of Kashmir Affairs is all set to host an All Parties’ Conference in Islamabad on Thursday wherein heads of political parties of Pakistan administered Kashmir (PaK) would share their expertise and opinion regarding the empowerment of local government.
Officials said the Conference is aimed at making necessary amendments in the existing interim constitution, which is largely being perceived as a hurdle in the way of socio-economic development in the region.
The Minister for Kashmir Affairs, Manzoor Ahmed Watoo has summoned the high profile meeting on this sensitive subject and invited almost all the mainstream political parties in the conference that includes the Pakistan Peoples Party headed by incumbent prime minister Chaudhary Majeed, Pakistan Muslim League PaK chapter headed by Raja Farooq Hyder, Muslim Conference led by Sardar Attique Ahmed Khan, Peoples Party headed by Sardar Khalid Ibraheem, Jammat-e-Islami and the heads of other regional parties respectively.
Talking to Greater Kashmir, veteran Kashmiri leader and chairman of Peoples Party (PaK) Sardar Khalid Ibraheem said, “we have received the invitation but the final decision on whether to attend the conference or not would be taken duly after holding deliberations with party stalwarts and legal experts on the subject”.  He, however, stated that his party’s stance in this regard was very much clear. “Our party is of the view that there is a dire need to revisit the Act 1974 so as to get rid of the contentious issues that have become source of irritation and discomfort”, he said.
Commenting on the development, renowned columnist and writer, Ershad Mahmud said that it was by and large a golden opportunity whereby stakeholders can sit and talk together to hammer out solution to all intriguing issues.
“Today when PPP rules both in PaK as well as at the centre, it provides a unique opportunity to them to do away with this dual system of governance so that people of PaK could remain associated with center (Pakistan) in a much dignified manner”.
He was of the view that the dual system introduced in the region (PaK) under the garb of interim act of 1974 has been a stumbling block in the way of region’s peace and prosperity. He maintained that the people of PaK have great expectations from central government and they want adequate constitutional, financial as well as administrative powers to run the State Affairs in a befitting manner.
Renowned jurist and the former chief Justice of PaK, Justice (retired) Manzoor Gilani termed the Kashmir Affairs Minister’s move as an attempt to ward off pressure from civil society to abolish Kashmir Council.
“It is high time that all the stakeholders including political parties of AJK and the government of both AJK and Pakistan should come forward with a positive frame of mind to take advantage of the situation”.
Justice (Retd) Gilani, who is also head of Association of Rights of people of Jammu Kashmir said in the backdrop of 18th, 19th and 20th constitutional amendments the powers devolved to other provinces of Pakistan should likewise be granted to Gilgit-Baltistan and PaK.
He maintained that in the light of recent constitutional amendments federating powers should be directly ceded to the government of Pakistan rather than the Council (KC).
Unless Kashmir dispute is resolved, Gilani opined that Kashmiris should be given due representation in the parliament of Pakistan, the senate and other constitutional institutions of Pakistan like National Economic Council, Finance Commission and Council for Common Interest
Meanwhile, Muslim Conference led by former PaK premier Sardar Attique Ahmed Khan has termed Kashmir Affairs Minister’s move as a welcome development saying that it was high time for PPP government to correct their mistakes committed in the past. Addressing an extraordinary meeting of the parties parliamentary committee Khan said that his party would extend all out support to the government of Pakistan in revamping and restoration of Act 1974 in its original shape.

Opposition parties to adopt joint stand
The opposition parties of Pakistan administered Kashmir (PaK) at a joint sitting here on Wednesday agreed to adopt a unanimous stand regarding the amendments in Act 1974.
Held under the leadership of Muslim League (N) headed by former PaK premier Raja Farooq Hyder Khan, the meeting was attended by former PaK president Sardar Anwar Khan, Sardar Khalid Ibraheem, JI Chief Abdul Rasheed Turabi, MC leader Sardar Sayab Khalid, Chairman Liberation League Justice (retired) Abdul Majeed Malik, PML-N secretary general Shah Ghulam Qadir and several others.
Deliberating on various issues relating to the Interim Constitution Act of 1974, the participants of the meeting resolved that while presenting suggestions each party would adhere to the agreed agenda. They maintained that at the end of conference the opposition leaders would also talk to media to present their view point on this particular subject.
They resolved that in view of the changes sweeping in the region there was a dire need that the elected government of region should be fully empowered as per the declaration of October 24, 1947.
The leaders of the opposition parties also voiced their serious concern over OIC for not inviting Kashmiri leadership in the recent summit held in Mecca. Terming it as incumbent government’s diplomatic failure, incompetence and its apathy towards Kashmir issue, they demanded the government of Pakistan should raise the Kashmir issue vociferously in the upcoming Indo-Pak foreign secretaries meeting.

شہنشاہِ غزل خاموش




شعلہ تھا جل بجھا ہوںہوائیں مجھے نہ دو  
میں کب کا جا چکا ہوں صدائیں مجھے نہ دو
اسلام آباد//برصغیر کے مایہ ناز گلوکار اور شہنشاہِ غزل مہدی حسن طویل علالت کے بعد بدھ کی دوپہر کراچی کے آغا خان ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ اُن کی عمر 85 برس تھی۔ شہنشاہ غزل فالج کے عارضے میں مبتلا ہوئے تھے اور گذشتہ کئی برسوں سے وہ سینے، پھیپھڑوں اور مثانے کے مختلف اَمراض میں بھی مبتلا چلے آ رہے تھے۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح ساڑھے نو بجے کے قریب ان کی طبیعت اچانک بگڑنا شروع ہوگئی اور بارہ بجکر پندرہ منٹ پر ان کا انتقال ہوگیا۔ مہدی حسن کی تدفین 15جون بروز جمعہ کو ہو گی۔مہدی حسن کو 15دن قبل اسپتال میں دوبارہ داخل کیا گیا تھا اور 5 دن قبل ان کی طبیعت میں بہتری آئی جسکے بعد اہل خانہ سے بات بھی کی تھی۔80کی دہائی میں علالت کی وجہ سے مہدی حسن نے گلوکاری کا سلسلہ ترک کردیا تھا تاہم صحت بحال ہونے کے بعد انہوں نے لتا منگیشکر کے ساتھ ’’تیرا ملنا‘‘ گایا ۔اکتوبر 2010  میں ’سرحدیں‘ البم میں جاری کیا گیا۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ان کا آخری نغمہ تھا۔خیال رہے کہ  13 جنوری2012 کوبھی ان کی موت کی افواہ اڑی تھی لیکن ان کے بیٹے آصف مہدی نے اس کی تردید کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انکے والد زیر علاج ہیں۔ مہدی حسن کے انتقال کے ساتھ غزل گائیکی کا سنہری دور ختم ہوگیا۔ گزشتہ ماہ راجستھان کے وزیراعلیٰ اشوک گہلوت نے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا سے درخواست کی تھی کہ مہدی حسن اور ان کے اہلِ خانہ کو بھارت آنے کے لئے ویزا دیا جائے۔ راجستھان سرکار نے اُن کے علاوج و معالجہ سرکاری 
سوانح حیات

 مہدی حسن 18جولائی1927کو راجستھان (بھارت) ضلع جے پورکے گاؤں لونا میں پیدا ہوئے۔ 1947میں بیس سالہ مہدی حسن اہلِ خانہ کے ساتھ نقلِ وطن کر کے کراچی گئے اور محنت مزدوری کے طور پر سائیکلیں مرمت کرنے کا کام شروع کیا۔انہوں نے مکینک کے کام میں مہارت حاصل کی اور پہلے موٹر مکینک اور اسکے بعد ٹریکٹر کے میکینک بن گئے۔ مہدی حسن ایک محنتی طالب علم کی طرح نجی مصروفیات اور گھریلو ذمہ داریوں کے باوجود موسیقی کے خیال سے غافل نہیں رہے اور انہوں نے عمر کے کسی حصّے میں بھی ریاض سے گریز نہیں کیا۔ان کا موسیقی کے معروف گھرانے کلاونت سے تعلق تھا،موسیقی کی ابتدائی تعلیم والد عظیم خان اور چچا اسماعیل خان سے حاصل کی۔ مہدی حسن نے کلاسیکی موسیقی میں اپنے آپ کو متعارف کروایا، جب آٹھ سال کے تھے۔اور پچپن سے ہی گلوکاری کے اسرار و رموز سے آشنا تھے ۔مگر اس سفر کا باقاعدہ آغاز 1952 میں ریڈیو پاکستان کے کراچی سٹوڈیو سے ہوا جب انہیں وہاں ٹھمری گانے کا موقع فراہم کیا گیا اور اس کے بعد انہوں نے پیچھے نہیں دیکھا۔وہ پچیس ہزار سے زیادہ فلمی، غیر فلمی گیت اور غزلیں گا چکے ہیں۔ گویا سر کے سفر کی داستان کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ان کی آواز بہت ہی مدھر تھی، جو کہ غزل گائیکی کیلئے بالکل مناسب تھی۔ ان کی دھنیں اور موسیقی شاعر کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ یہ کہنا بھی غلط نہیںہوگا کہ انہوںنے غزل کو اور آسان بنا کر اسے عام آدمی کے قریب تر لایا۔مہدی حسن اردو شاعری کو بہت اچھی طرح سمجھتے تھے اور ان کی غزلوں کا انتخاب بھی بہترین تھا۔ ریڈیوپر فیض احمد فیض کی غزل ’’گْلوں میں رنگ بھرے بادِ نور بہار چلے‘‘ پہلی مشہور غزل تھی ، فلمی گائیکی کی ابتداء فلم ’’شکار‘‘ سے کی۔ مہدی حسن نے 325 سے زائد فلموں میں بے شمار مقبول گانے گائے۔ انہوں نے تمغہ حسن کارکردگی اور ہلالِ امتیاز سمیت پاکستان کے تمام نمایاں قومی سطح کے ایوارڈ حاصل کئے، جن میں 9 نگار ایوارڈ بھی شامل ہیں، حکومت نیپال نے سب سے بڑا سویلین ایوارڈ ’’گورکھا دکشن باہو‘‘ دیاجبکہ بھارت میں انہیں ’’سہگل ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ انہوں نے امریکہ، برطانیہ، مڈل ایسٹ، بھارت، بنگلہ دیش، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا وغیرہ میں اپنے فن کا جادو جگایا۔ سنجیدہ حلقوں میں اْن کی حیثیت ایک غزل گائیک کے طور پر مستحکم رہی۔ اسی حیثیت میں انہوں نے برِصغیر کے ملکوں کا کئی بار دورہ کیا۔ بھارت میں اْن کے احترام کا جو عالم تھا وہ لتا منگیشکر کے اس خراجِ تحسین سے ظاہر ہوا کہ مہدی حسن کے گلے میں تو بھگوان بولتے ہیں۔ نیپال کے شاہ بریندرا اْن کے احترام میں اْٹھ کے کھڑے ہوجاتے تھے اور فخر سے بتاتے تھے کہ انھیں مہدی حسن کی کئی غزلیں زبانی یاد ہیں۔پاکستان کے صدر ایوب، صدر ضیاء الحق اور صدر پرویز مشرف بھی اْن کے مداح تھے اور انھیں اعلیٰ ترین سِول اعزازات سے نواز چْکے تھے، لیکن مہدی حسن کے لیے سب سے بڑا اعزاز وہ بے پناہ مقبولیت اور محبت تھی جو انھیں عوام کے دربار سے ملی۔ ہند و پاک سے باہر بھی جہاں جہاں اْردو بولنے اور سمجھنے والے لوگ آباد ہیں، مہدی حسن کی پذیرائی ہوتی رہی اور سن 80کی دہائی میں انھوں نے اپنا بیشتر وقت یورپ اور امریکہ کے دوروں میں گزارا۔مہدی حسن کثیرالاولاد آدمی تھے۔ اْن کے چودہ بچّے ہیں، نو بیٹے اور پانچ بیٹیاں۔ اپنے بیٹوں آصف اور کامران کے علاوہ انھوں نے پوتوں کو بھی موسیقی کی تعلیم دی اور آخری عمر میں انھوں نے پڑدادا بننے کا اعزاز بھی حاصل کرلیا اور اپنے پڑپوتوں کے سر پہ بھی دستِ شفقت رکھا۔اْن کے شاگردوں میں سب سے پہلے پرویز مہدی نے نام پیدا کیا اور تمام عمر اپنے اْستاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے رہے۔ بعد میں غلام عباس، سلامت علی، آصف جاوید اور طلعت عزیز جیسے ہونہار شاگردوں نے اْن کی طرز گائیکی کو زندہ رکھا۔وہ جگجیت سنگھ کے بھی استاد تھے۔ ملکہ ترنم نور جہاں نے کہا تھا کہ ایسی آواز صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتی ہے، آج مداّح اور ممدوح دونوں ہی اس دنیا میں نہیں لیکن موت نے صرف اْن کا جسدِ خاکی ہم سے چھینا ہے۔ اْن کی لازوال آواز ہمیشہ زندہ رہے گی۔راجستھان کی حکومت کی دعوت پر مہدی حسن نے 2000 میں راجستھان کا دورہ بھی کیا تھا اور اس دوران وہ اپنے آبائی گاوں لونا بھی گئے تھے۔ اور اپنے مرحوم دادا امام الدین کی قبر پر فاتحہ بھی پڑھی تھی۔وہ اس سے قبل بھی لونا گاوں کا دورہ کرچکے تھے اور گاوں کے سرکاری اسکول کی عمارت کی تعمیر میں مالی مدد بھی کی تھی۔لونا گاوں کے رہنے والے بھی مہدی حسن سے بہت محبت کرتے تھے اور ان کی علالت کے دوران ان کی صحت کے لئے مسلسل دعائیں کرتے رہے تھے۔

این آر او کیس میں راجہ پرویز کی عدالت عظمیٰ میں پیشی

پاکستانی وزیر اعظم کو تین ہفتوں کی مہلت

اسلام آباد// پاکستانی وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف این آر او کیس پر عمل درآمد سلسلہ میں سوموار کو عدالت عالیہ کے پانچ رکنی بینچ کے سامنے پیش ہوئے جہاں پر انہوں نے عدالت کو یقین دلایا کہ انکی حکومت عدالتی فیصلے کا احترام کرتی ہے تاہم انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ آئینی ماہرین سے مشاورت کے لئے حکومت کو چار سے چھ ہفتے کی مہلت دی جائے تاکہ معاملے کو احسن انداز میںحل کیا جاسکے۔ سپریم کورٹ نے راجہ پرویز اشرف کا بیان ریکارڑ کرنے کے بعدوزیر اعظم کو مشاورت کے لئے تین ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت آیندہ ماہ کی 18تاریخ تک ملتوی کردی۔ وزیر اعظم نے اپنا بیان دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ وہ سابق وزیر اعظم کی طرح اعلیٰ عدلیہ کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔ انکا کہنا تھا انہوں نے دو ماہ قبل وزارت عظمیٰ کی بھاگ ڈور سنبھالی ہے۔ ملک کو درپیش مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو کافی مسائل کا سامنا ہے تاہم یہ معاملہ بھی بہت اہم ہے لیکن حکومت کی کوشش ہے کہ اس ایشو کو ایسے حل کیا جائے جس سے عدالت کا وقا ر بھی برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی صورت عدالتی نافرمانی کا تاثر نہیں دینا چاہتے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کوئی نہ کوئی راہ نکل آئے گی جس سے عدالت کا وقار بھی بلند ہوگا۔ جسٹس آصف سعید کی سربراہی میںاعلیٰ عدلیہ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنے ریمارکس میںکہا کہ عدالت میں پیش ہونا احترام نہیں بلکہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنا عدلیہ کا احترام ہے۔ جسٹس آصف کا کہنا تھا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ وزیراعظم نے خود خط لکھنا ہوتا ہے بلکہ وہ خط لکھنے کا اختیار وزیر قانون یا کسی اور کو دے سکتا ہے۔ سوئیس کیس کی بحالی ضروری قرارد یتے ہوئے جسٹس آصف نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ کیس اتنا پیچیدہ نہیں تھا جتنا اس سے الجھایا گیا۔ دریں اثناء وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کا عدالت میں پیش ہونا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ حکومت عدلیہ کا احترام کرتی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ حکومت این آراو کے حل کے حوالے سے ماہرین کے ساتھ مشاورت کے بعد کوئی نہ کوئی حل ضرور نکال لے گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت  محض وقت گذاری نہیں بلکہ مسائل کا حل چاہتی ہے۔انہوں نے واضع کیا کہ دو یا تین ہفتوں کی مہلت سے بلا حکومت کونسا تیر مارے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ہم وقت گذاری کے لیے ایسے اقدام کرتے ہیں۔